اسلام آباد (احمد ارسلان)اسلام ایک بے حد خوبصورت دین ہے ۔ مگر نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جہاں باقی آسمانی مذاہب میں تحریفات ہوئیں وہیں دین اسلام بھی تحریفات کا شکار ہوا ۔ نت نئی بدعات نکالی گئیں اور انہیں مذہب کا لازمی جز بنا کر پیش کیا گیا ۔ شاید یہ ہماری بدبختی ہی ہے جو اقوام عالم میں ایک مانی ہوئی قوم آج ایک دنیا کی پٹی ہوئی قوم

سمجھی جا رہی ہے ۔ زرا تازہ ترین مثال ہی ملاحظہ فرمائیں ۔ نجی ٹی وی چینل پر ایک پروگرام دیکھا جس میں تمام بابائوں کی کرامتوں کی بلندیوں کو پھلانگتے ہوئے مارکیٹ میں ایک نئے بابا جی تشریف لا چکے ہیں اور قارئین حیرت کے شدید جھٹکے کیلئے تیار ہوجائیں کہ وہ بابا جی کوئی انسان نہیں بلکہ ایک محترم کچھوے ہیں۔ خانیوال کےایک نواحی گائوں میں یہ معروف بابا جی اپنی تمام تر روحانی قوتوں کے ساتھ ایک مطلق جاہل شخص کے ساتھ براجمان ہیں ۔ بابا جی کی رہنے کی جگہ ایک کمرے میں موجود چھوٹا سا تالاب ہے جس کی صفائی کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ اس میں موجود پانی کالا رنگ اختیار کر چکا ہے اور مقام حیرت و افسوس یہ کہ اس متبرک پانی کومعتقد خواتین و حضرات بلا جھجک نوش فرماتے ہیں ۔ بابا جی کے سامنے ڈھول کی تھاپ پر مست ہو کر رقص ِ بے لگام ہوتا ہے ۔ لنگر کا بھی اعلیٰ انتظام موجود ہے۔ چاولوں کی ایک دیگ ہمہ وقت زائرین کیلئے کھلی رہتی ہے اور عوام الناس کا جم غفیر یہاں کچھوے بابا کے پاس اپنی مرادیں اور منتیں لیے حاضری دیتا ہے ۔ دل نہیں کرتا کہ اس معاملے کی تفصیل میں جائوں مگر آپ سے ایک سوال ہے کہ کیا یہی میرے محمد ﷺ کا اسلام ہے ؟ ارے ہاں ایک بات تو بھول ہی گیا کہ پاکستان میں لوگوں کو کھانے کو نہیں ملتا اور کچھوے بابا قیمہ تناول فرماتے ہیں ۔۔ سبحان اللہ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں