اسلام آباد(آئی این پی)افتخار چوہدری نے کہا کہ ایبٹ آباد کمیشن میں نے بنایا رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی ،امریکیوں کو ڈروان حملوں ،شمسی اور شہباز ایئرپورٹ کے استعمال کی اجازت مشرف نے دی ،پرویز مشرف نے ملک کو بکاؤ مال بنادیا ، سزا آج ہم بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی بجائے سول عدالتوں میں اصلاحات لائی جائیں ، اقتدار میں آئے تو سب کا بے رحم احتساب کریں

گے ۔ جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے آئندہ عام انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرف سے سیاسی اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، باقی سیاسی جماعتوں سے انتخابات میں اتحاد بارے وقت آنے پر سوچیں گے ، بلوچستان سب سے زیادہ وسائل والا صوبہ ہے تاہم وہاں کی عوام کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے ، نعروں کے برعکس حکومت نے بلوچستان میں ایک بھی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا ، گوادر اور سی پیک کے نعرے لگائے جاتے ہیں جبکہ گوادر کے شہری پینے کے صاف پانی کو ترس رہے ہیں ،سٹاک ایکس چینج کا 40فیصد چینیوں کے حوالے کردیا گیا ،معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکٹائیں گے ،حکومت تیاری کے بغیر مردم شماری کروانے جا رہی ہے ، اس مردم شماری پر لاتعداد تحفظات کھڑے ہوں گے ،ایبٹ آباد کمیشن میں نے بنایا رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی ،امریکیوں کو ڈروان حملوں ،شمسی اور شہباز ایئرپورٹ کے استعمال کی اجازت مشرف نے دی ،پرویز مشرف نے ملک کو بکاؤ مال بنادیا ، سزا آج ہم بھگت رہے ہیں ،فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی بجائے سول عدالتوں میں اصلاحات لائی جائیں ، اقتدار میں آئے تو سب کا بے رحم احتساب کریں گے ۔ وہ جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں صرف اعلیٰ طبقے کو

ہی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ،لاہور سمیت کہیں بھی غریبوں کیلئے ناتو سکول اور ہسپتال بنائے گئے نہ کوئی اور سہولیات دی گئیں ، خیبرپختونخوا میں بھی کوئی دودھ کی نہریں نہیں بہہ رہیں ، ہر جگہ گورننس کا برا حال ہے ،امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں 40فیصد سٹاکس ایکس چینج چائنیز کے حوالے کر دیا گیا اس پر پارلیمنٹ سمیت کہیں بھی آواز نہیں اٹھائی گئی ،ٹھیک ہے کہ چین سی پیک جیسا گیم چینجر منصوبہ لیکر آیا تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ہر چیز ان کے حوالے کر دیں ۔سابق چیف جسٹس نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے ،پرویزمشرف سے سیاسی اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، باقی سیاسی جماعتوں سے انتخابات میں اتحاد بارے وقت آنے پر سوچیں گے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان سب سے زیادہ وسائل والا صوبہ ہے تاہم وہاں کی عوام کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے ، نعروں کے برعکس حکومت نے بلوچستان میں ایک بھی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا ، گوادر اور سی پیک کے نعرے لگائے جاتے ہیں جبکہ گوادر کے شہری پینے کے صاف پانی کو ترس رہے ہیں ۔افتخار چوہدری نے کہا کہ

بلوچستان کی بے حد اہمیت ہے ،وزیراعظم کو بلوچستان کی عوام سے ذرا بھی دلچسپی نہیں ،ہوتی تو وہاں کوئی ترقیاتی منصوبے شروع کرتے ، بلوچستان کے عوام اب جاگ چکے ہیں ،اب وہ ان ہی کو ووٹ دیں گے جو ان کے مسائل سمجھتے ہیں اور حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔

انہوں نے کہ اکہ حکومت تیاری کے بغیر مردم شماری کروانے جا رہی ہے صرف اس وجہ سے کہ سپریم کورٹ نے حکومت کو مردم شماری کرانے کا حکم دیا ہے ،20سال پرانے فارم استعمال کئے جا رہے ہیں ،حکومت کو چاہیے تھا پہلے تیاری کرتی ،لوگ اس مردم شماری کو قبول نہیں کریں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں