>یونہی تو نہیں کسی کو شیر خداؓ، کسی کو صدیقؓ، کسی کو غنیؓ اور کسی کو سیف اللہ کا لقب مل گیا، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی تربیت اس ہستی کے زیر سایہ ہوئی تھی جو خود تو امی تھے مگر علم اور تربیت کا ایسا خزانہ دے گئے جس سے آنے والی انسانیت ہمیشہ بہرہ مند ہوتی رہے گی، شجاع ایسے کہ عرب کے مشہور پہلوان کو چند لمحوں میں خاک چٹا دی، حسین ایسے کہ

حسن یوسف ؑ ماند پڑ جائے ، امین اور صادق ایسے کے بدترین مخالف بھی انکارنہ کر سکیں۔ سرور کائنات، سرکار دو عالم، محمد مصطفیٰ ﷺکی درسگاہ سے فیض یاب ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے کردار نے جہاں دنیا کو متاثر کیا وہیں ان کی قوت ایمانی نے اسلام کی ترویج اور اشاعت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کا اللہ تعالیٰ اور روز ِ آخرت پرمضبوط یقین ہی تھا جس نے محبت، شجاعت ،قربانی اور ایثار کی لازوال داستانوں کو آنے والی امت کیلئے مشعل راہ بنا دیا۔ایسا ہی ایک واقعہ حضرت خالد بن ولید ؓ کا بھی ہے جن کی زبردست قوت ایمانی نے نہ صرف مسلمانوں کو فتح دلائی بلکہ باطل عقائد کے مقابلے میں اسلام کی حقانیت پر مہر ثبت تصدیق کر دی ۔حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں اسلامی لشکر نے عیسائیوں کے قلعہ کا محاصرہ کر رکھا تھا۔عیسائیوں نے بہت سوچ بچار کے بعد ایک ترکیب ڈھونڈی جس سے نہ صرف محاصرہ ختم ہونے میں مدد مل سکتی بلکہ مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچایا جا سکتا تھا ۔ انہوں نے باہم مشورے کے بعد اپنا ایک نہایت ذہین اور معمر چالاک پادری حضرت خالد بن ولیدؓ کے پاس مذاکرات کیلئے بھیجا۔بوڑھا پادری جب آپ ؓکے پاس آیا۔ اس کے ہاتھ میں انتہائی تیز زہر کی ایک پڑیا تھی۔ اس نے حضرت خالد بن ولید ؓسے عرض کیا کہ آپ ہمارے قلعہ کا محاصرہ اٹھا لیں، اگر آپ نے

دوسرے قلعے فتح کر لئے تو اس قلعہ کا قبضہ ہم بغیر لـڑائی کے آپ کے حوالے کر دیں گے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ’’نہیں، ہم پہلے اس قلعہ کو فتح کریں گے بعد میں کسی دوسرے قلعے کا رخ کریں گے‘‘۔ یہ سن کر بوڑھا پادری بولا۔’’اگر تم اس قلعے کا محاصرہ نہیں اٹھائو گے تو میں یہ زہر کھا کر خودکشی کر لوں گا اور میرا خون تمہاری گردن پر ہو گا‘‘۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے۔’’یہ ناممکن ہے کہ تیری موت نہ آئی ہو اور تو مر جائے‘‘۔بوڑھا پادری بولا’’اگر تم ایسا یقین رکھتے ہے تو لو پھر یہ زہر کی پڑیا پھانک کر دکھائو‘‘۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ زہر کی پڑیا پادری کے ہاتھوں سے لے لی اور یہ دعا بسم اللہ وہ باللہ رب الأرض و رب السماء الذی لا یضر مع اسمعہ داء پڑھ کر

وہ زہر کی پڑیا پھانک لی اور اوپر سے پانی پی لیا۔ بوڑھے پادری کو مکمل یقین تھا کہ یہ چند لمحوں میں آپ ؓ موت کی وادی میں پہنچ جائیں گے اور قلعہ کا محاصرہ ختم کر دیا جائے گامگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ چند منٹ تک آپ کے بدن پر پسینہ نمودار ہوتا رہا اور اللہ نے آپ کو زہر کی ہلاکت سے محفوظ رکھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پادری سے مخاطب ہو کر فرمایا

’’دیکھ لو ، اگر موت نہ آئی ہو تو زہر بھی کچھ نہیں بگاڑ پاتا‘‘۔ پادری کوئی جواب دئیے بغیر آپ کے پاس سے اٹھ کر بھاگ کھڑا ہوا اور قلعہ میں جا کر اپنی قوم سے کہا’’اے لوگو! میں ایسی قوم سے مل کر آیا ہوں خدا تعالیٰ کی قسم! اسے مرنا تو آتا ہی نہیں، وہ صرف مارنا ہی جانتے ہیں۔ جتنا زہر ان کے ایک آدمی نے کھا لیا، اگر اتنا پانی میں ملا کر ہم تمام اہل قلعہ کھاتے تو یقیناََ مر جاتے مگر اس آدمی کا مرنا تو درکنار ، وہ بے ہوش بھی نہیں ہوا۔ میری مانو تو قلعہ اس کے حوالے کر دو اور ان سے لڑائی نہ کرو۔‘‘چنانچہ وہ قلعہ بغیر لڑائی کے صرف حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قوت ایمانی سے فتح ہو گیا۔<

اپنا تبصرہ بھیجیں