اسلام آباد (این این آئی)سینٹ نے پی آئی اے کی مجموعی کارکردگی بارے خصوصی کمیٹی کی دوسری عبوری رپورٹ اور خیبر پختونخوا حکومت کے 24 مطالبات کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری دیدی ۔ جمعرات کو اجلاس کے دور ان پی آئی اے کی مجموعی کارکردگی سے متعلق خصوصی کمیٹی کی دوسری عبوری رپورٹ کی منظوری دی گئی اس سلسلے میں سینیٹر مظفر حسین شاہ نے تحریک پیش کی کہ پی

آئی اے کی مجموعی کارکردگی سے متعلق خصوصی کمیٹی کی دوسری عبوری رپورٹ کو زیر غور لایا جائے اور منظور کیا جائے اس معاملے پر سید مظفر حسین شاہ ‘ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم‘ سینیٹر طاہر حسین مشہدی‘ سینیٹر رحمان ملک نے اظہار خیال کیا۔ اجلاس کے دور ان خیبر پختونخوا حکومت کے 24 مطالبات کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری دی گئی۔ خصوصی کمیٹی کے کنوینئر سید مظفر حسین شاہ نے اس سلسلے میں تحریک ایوان میں پیش کی جس پر سینیٹر اعظم سواتی‘ سینیٹر محسن عزیز اور طاہر حسین مشہدی نے بھی اظہار خیال کیا جس کے بعد ایوان نے کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری دیدی۔اجلاس کے دور ان چیئرمین سینیٹ نے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ آرٹیکل کے حوالے سے تحریک التواء بحث کے لئے منظور کرلی سینیٹر لیفٹیننٹ (ر) عبدالقیوم اور محسن عزیز کی تحریک التواء کی منظوری کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل تھا جس پر سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے اظہار خیال کیا اور اپنا موقف بیان کیا جس کے بعد چیئرمین نے تحریک التواء کو بحث کے لئے منظور کرلیا اور کہا کہ منگل کو اس پر دو گھنٹے بحث کرائی جائے گی۔اجلاس کے دور ان سینٹ میں معلومات تک رسائی بل 2016ء سے متعلق منتخب کمیٹی برائے معلومات کی رپورٹ پیش کردی گئی۔ کمیٹی کے چیئرمین

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اجلاس کے دور ان سینیٹر کامل علی آغا نے پرائیویٹ ممبر کے طور پر پیش کیا گیا رائٹ ٹو انفارمیشن 21 نومبر 2016ء بل ایوان بالا سے واپس لے لیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی طرف سے معلومات تک رسائی بل 2016ء کی رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد سینیٹر کامل علی آغا نے نکتہ اعتراض پر بات چیت کرتے ہوئے پرائیویٹ ممبر کے طور پر رائٹ ٹو انفارمیشن 21 نومبر 2016ء کا بل واپس لینے کی درخواست کی جس کی چیئرمین سینٹ نے ایوان سے منظوری حاصل کی۔ یہ بل 21 نومبر 2016ء کو سینیٹر کامل علی آغا نے پیش کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں