گوادر(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم نواز شریف نے گوادر میں عوامی جلسہ عام سے خطاب کیا،وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں اپنی پہلی حکومتوں کا ذکر کیا کہ کسی طرح وہ اپنی پہلی حکومت میں گوادر کو بہترین ساحلی شہر میں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ دوسری دفعہ حکومت ملنے پر پھر گوادر میں کام کرنا چاہتا تھا مگر مہلت نہیں ملی۔ہماری حکومت کے علاوہ کسی اور حکومت نے گوادر پر کام کرنا پسند نہیں کیا۔یہ اعزاز بھی ہماری

حکومت کو حاصل ہے کہ ہمارے دور حکومت ہی گوادر پر کام شروع کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا اب گوادر ترقی کے دور میں داخل ہو چکا ہے،میں پہلا وزیر اعظم ہوں جس نے گوادر میں رات گزاری ہے میں نے گوادر کے اتنے دورے کئے کہ ان کو شمار نہیں کی کیا جا سکتا۔، بلوچستان میں پہلے سفر دو دن کا سفرہوتا تھا اب گھنٹوں میں تبدیل ہو چکا ہے اس وقت بلوچستان میں 1100کلو میڑ طویل سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ کوئٹہ سے گوادر بہترین سڑک بن چکی ہے۔ سڑکوں کی تعمیر سے مثالی ترقی کا دور شروع ہوتا ہے۔ گوادر کا علاقی میں سے مل چکا ہے۔تیز ترین ترقی سڑکوں سے ممکن ہوتی ہے اس سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا اور لوگ کو بہترین روزگار ملے گا۔ عوام خود بھی محسوس کر رہے ہیں کہ گوادر میں مثالی ترقی کا دور شروع ہوچکا ہے۔وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ آپ 2013والے پاکستان پرنظر ڈالیں تو دیکھیں گئے کہ پاکستان کے ادارے بند ہو رہے تھے،دہشت گردی عروج پر تھی صنعتیں بند ہو رہی تھیں اب نے اسکے باوجود گھبرائے نہیں بلکہ ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا۔ سی پیک پاکستان کے لیے گیم چینجر ہے۔ وزیر اعظم صاحب نے نواب ثناہ اللہ زہری کو مخاطب کرئے ہوئے کہا کہ نواب صاحب بلوچستان کی ترقی کے لیے قدم اُٹھائیں میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو ں گا۔آپ کو پتا ہو گا گوادر میں بجلی نہیں تھی پینے کا پانی بھی میسر نہیں تھا اب یہاں سب کچھ میسر

ہے۔اب گوادر میں سی پیک کے تحت پینے کے پانی کا کارخانہ لگایا جائے گا۔ یہ سب کچھ عوام کو تھفے نہیں ہیں بلکہ اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔وزیر اعظم نے کہا کہ گلے کاٹنے والے بھاگنے پر مجبور ہو جائیں گئے، بلوچستان میں وہاں سڑکیں بنی جہاں انتہا پسندی عروج پر تھی۔ ضلع گوادر کو لوگوں کے لیے ہیلتھ کاڑڈ جاری کیے گئے ہیں،غریبوں کے مفت علاج کی سہولت میسر ہو گی حکومت علاج کے اخراجات برداست کرے گی۔اس

پہلے لوگوں کو اپنے علاج کروانے کے لیے اپنی جائیدایں بیچنی پڑتی تھیں۔میں نے ہیلی کاپٹر سے سارا علاقہ دیکھا ہے اس علاقے کی حالت پتلی ہے اس علاقے کی ترقی کے لیے 100 کرڑو کی گرانٹ کا اعلان کرتا ہوں ۔یہ سب ہونے کے بعد میں خود گوادر میں ہونے والی ترقی دیکھنے میں خود یہاں آوں گا اور یہاں کی گلیوں میں پیدل چل کر خود یہاں ہونے والی ترقی کا مشاہدہ کروں گا۔ اپنے خطاب کے آخری الفاظ میں پاکستان زندہ باد،بلوچستان زندہ باد اور گوادر زندہ باد کے نعرے بلند کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں