میانوالی ( آن لائن) وزیراعظم نواز شریف نے چشمہ تھری پاور پلانٹ کے افتتاح پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے سفر کا ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ہم پرعزم ہیں کہ حسب وعدہ 2018ء تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے گی۔

انہوں نے چشمہ تھری کے ملازمین کیلئے 2 ماہ بونس کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ حکومت آپ کی محنت اور کوششوں کو تعریف کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ وزیراعظم نے پاک، چین دوستی کو سمندر سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی قرار دی اور کہا کہ پاکستان کی تعمیر نو چین کو بھی دعوت دیتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق میانوالی میں چشمہ تھری پاور پلانٹ کے افتتاح کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ چشمہ تھری سے 340 میگاواٹ بجلی کی فراہمی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ پاک چین تعاون خطے کی خوشحالی کا پیغام ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ مراسم، مثبت اور تعمیری منصوبوں میں اشتراق، اور باہمی محبتیں دونوں ملکوں کے ایوان کیلئے ناصرف نیک شگون ہے بلکہ یہ تعاون اور اشتراک اس خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز بھی ہے۔مجھے پوری امید ہے انشاء اللہ کہ چشمہ یونٹ چار بھی مقررہ مدت سے پہلے دو ہزار 17 کے وسط سے پہلے بجلی کی فراہمی شروع کر دے گا۔ اس کے علاوہ کے ٹو اور کے تھری پاور پلانٹ کی تعمیر بھی توانائی کے حصول کی جانب اہم قدم ہو گا اور یہ باہمی تعلقات کو بھی مزید مستحکم کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ میری خوشگوار یادوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ چینی ساختہ پہلے نیوکلیئر پاور پلانٹ چشمہ یونٹ سی ون کی تعمیر کا معاہدہ بھی ہمارے پہلے دور حکومت میں ہی طے پایا تھا اور اسی معاہدے نے دونوں ملکوں کے مابین نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں تعاون کی بنیاد فراہم کی۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہے کہ چشمہ میں چلنے والے نیوکلیئر پاور پلانٹس چشمہ ون اور ٹو ملک میں چلنے والے پاور پلانٹس میں سب سے بہترین کارکردگی کے حامل ہیں جو قومی گرڈ کو 600 میگاواٹ سے زائد بجلی سستے داموں فراہم کر رہے ہیں۔ مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ کینپ جس کی ڈیزائن لائن 2002ء میں پوری ہو چکی تھی آج بھی بجلی کی محفوظ طریقے سے پیداوار جاری رکھے ہوئے ہے۔ بین الاقوامی مدد کے بغیر چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط کینپ کے محفوظ اور مسلسل پیداوار ایک اہم کامیابی ہے۔ اسی طرح چشمہ کے نیوکلیئر پاور پلانٹ کے شاندار ریکارڈ نے پاکستان کے قابل عمل نیوکلیئر پاور پلانٹ کی بنیاد رکھ دی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ یہ بات پوری قوم کیلئے باعث مسرت ہے کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے جوہری ایندھن میں خودانحصاری کیلئے قابل فخر پیش رفت کی ہے اور حکومت توانائی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی ہر ضرورت کو پورا کرے گی۔انہوں نے اس موقع پر جدید نیوکلیئر پاور پلانٹس کیلئے تکنیکی اور مالی مدد فراہم کرنے پر چینی حکومت کے ساتھ چین کی اٹامک انرجی اتھارٹی، سی اے ای اے، چائنہ نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن اور دیگر چینی تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وطن عزیز سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہے اور گزشتہ تین سال میں حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے، ہم پرعزم ہیں کہ حسب وعدہ 2018ء تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے گی۔ کے ٹو اور کے تھری سے پیدا ہونے والے اضافی 2200 میگاواٹ کی بجلی اس سمت میں اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی کی ترقی کیلئے توانائی کے بڑے منصوبوں کا قیام ناگزیر ہے اور میں اٹامک انرجی کمیشن سے کہوں گا کہ وہ اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ایٹمی پلاور پلانٹ لگانے کے عمل کو تیز کریں اور ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔ اس موقع پر انہوں نے چشمہ تھری منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینئرز اور خصوصی طور پر میں تقریب میں شرکت کیلئے چین سے آنے والے افراد کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین گہرے دوست ہیں اور دونوں ممالک کی دوستی سمندری سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی ہے۔ ہم چین کیساتھ مل کر سی پیک بنا رہے ہیں، گوادر بنا رہے ہیں، بلوچستان میں سڑکیں اور ہائی ویز بنا رہے ہیں، سٹیٹ آف دی آرٹ ائیرپورٹ بنا رہے ہیں اور ان تمام منصوبوں میں چین کا اشتراک دونوں ممالک کی دوستی کو مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تین سال میں کئے گئے اقدامات سے صورتحال میں بہتری آئی اور میں چینی کمپنیوں کو بھی پاکستان نیوکلیئر پاور پلانٹس میں سرمایہ کای کی دعوت دیتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں