لنڈی کوتل(این این آئی)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے افغانستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دوستی کے حوالے سے ہر بات ماننے کیلئے تیار ہیں تاہم گیڈر بھبھکیاں اور غیروں کی ڈور ہلانے پر پاکستان کے خلاف الزامات قابل قبول نہیں ٗ پاکستانی قوم نہ پہلے دباؤ میں آئی ہے اور نہ اب آئیگی ٗافغانستان کستانی عوام کی افغانستان کے عوام سے تاریخی اور مذہبی رشتے کا پاس رکھیں اور دوسروں کے بہکاوے میں نہ آئے ٗپاکستان کی افواج ٗپولیس ٗ لیویز اور خاصہ دار فورسز پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں ٗدنیا میں دہشت گردی کا گراف اوپر اور پاکستان میں گراف نیچے جارہاہے۔ بدھ کو خیبرایجنسی میں طورخم کے مقام پر پاک افغان سرحد کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ دہشتگرد وہاں سے دن دیہاڑے یہاں آتے ہیں لیکن ہم افغانستان سے کیے گئے وعدے کے مطابق اس کی تشہیر نہیں کرتے اور سارا پریشر ہماری سیکیورٹی ایجنسیز برداشت کرتی ہیں لیکن افغانستان سے ہمارے ناکردہ گناہوں کی بھی تشہیر کردی جاتی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہاکہ میں افغانستان کے بالکل سامنے کھڑا ہوکر کہتا ہوں کہ وہ پاکستانی عوام کی افغانستان کے عوام سے تاریخی اور مذہبی رشتے کا پاس رکھیں اور دوسروں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔چوہدری نثارعلی خان نے کہا کہ ہم افغانستان کا دشمن ہمارا دشمن اور افغانستان کا دوست ہمارا دوست کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں لیکن وہاں ہر کارروائی کا الزام پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی کہ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے مشروط ہے۔آپریشن ضرب عضب میں سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افواج، پولیس، لیویز اور خاصہ دار فورسز پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں۔انھوں نے پاک۔افغان سرحد پر فرنٹیئر کورپس (ایف سی) کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ایف سی کی بہادری اور شجاعت پر کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔چوہدری نثار نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران صرف ایف سی میں 1284 جوان اور افسر شہید ہوئے، 3 ہزار سے زیادہ جوان زخمی اور 282 معذور ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ دنیا میں دہشت گردی کا گراف اوہر جارہا ہے، لیکن پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں دہشت گردی کا گراف نیچے جارہا ہے اگرچہ یہ ختم نہیں ہوا، لیکن اس میں کمی آئی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اس وقت اس خطے میں کوئی دہشت گرد نیٹ ورک یا ہیڈ کوارٹر نہیں ہے ٗ ہمارے ضرب عضب کے تاریخی آپریشن کے بعد یہ لوگ مارے گئے یا بھاگ گئے ٗیہ لوگ سرحد پار کرکے آتے ہیں اور بزدلوں کی طرح ہمارے عوام پر وار کرتے ہیں لیکن ہم نے ان کو روکنا ہے۔اس موقع پر وزیر داخلہ نے پاک۔افغان سرحد پر بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے بھی بات کی اور بتایا کہ 2 ہزار 400 کلومیٹرز سے زائد پر مشتمل پاک۔افغان سرحد کی مینجمنٹ ہمیں بہتر بنانی ہے اور اس میں گذشتہ 6 ، 7 ماہ سے بہت بہتری آئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ 2020 تک پاک۔افغان سرحد پر صرف 6 کنٹرلڈ روٹس ہوں گے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ بارڈر مینجمنٹ کے سلسلے میں سب سے اہم فیصلہ یہ تھا کہ فوج کو ہٹا کر ایف سی کو سرحدوں پر لایا جائے اور اگلے سال جولائی تک ایف سی کے نئے ونگز آپریشنل ہوجائیں گے تاکہ دہشت گردوں کے غیر مخصوص روٹس کے استعمال کو روکا جاسکے۔وزیر داخلہ نے اس موقع پر سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو بھی سراہا اور کہا کہ انھوں نے فرنٹ سے پاک فوج کی رہنمائی کی۔چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ فاٹا اصلاحات میں تاخیر ہوئی لیکن یہ جلد مکمل کی جائیں گی،فاٹا اصلاحات پر نہ صرف مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات بلکہ قبائل کے تحفظات بھی دور کئے جائیں گے اور قبائلی روایات کو نقصان نہیں پہنچے گا جب کہ سی پیک میں فاٹا کا بھی حصہ ہوگا۔اس سے قبل وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پشاور میں قلعہ بالا حصار میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، انہوں نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ پڑھی۔وزیر داخلہ کو آپریشن ضرب عضب میں فرنٹیئر کور کے کردار کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں