اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) طبی ماہرین نے فضائی آلودگی کو دنیا بھر میں فالج کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی آلودگی کے ذرات دماغی رگوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں ۔ امریکی طبی جریدے کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق فالج کی وجوہات پر کی گئی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ فضائی اور گھریلو آلودگی بھی فالج ہونے کی وجوہات میں شامل ہے ۔تحقیق میں فالج کی وجوہات میں 74 فیصد ورزش نہ کرنے سگریٹ نوشی اور ناقص غذائیں شامل ہیں تحقیق کے دوران 1990 سے لے کر 2013 تک کے فالج کے واقعات کا مشاہدہ کیا گیا جس میں تمباکو نوشی ، خراب غذا اور ورزش نہ کرنے کو فالج کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ۔
رپورٹ میں 188 ممالک کا ڈیٹا حاصل کیا گیا جس میں انکشاف ہوا کہ ہر سال ڈیڑھ کروڑ افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں جن میں سے 60 لاکھ افراد اس مرض کا مقابلہ نہ کرتے ہوئے ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ 50 لاکھ کسی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں ماہرین کے مطابق فالج کی دس بڑی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر ، پھلوں اور سبزیوں کا کم استعمال ، وزن کی زیادتی ، نمک کا استعمال ، تمباکو نوشی ، فضائی آلودگی اور گھریلو آلودگی شامل ہیں
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں فالج کے 29 فیصد واقعات فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوتے ہیں جس میں فضائی آلودگی کے ذرات سانس لینے کے دوران خون میں شامل ہو کر دماغی رگوں میں خون کے لوتڑے بنا کر انہیں شدید نقصان پہنچاتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں