اسلام آباد(نیوزڈیسک)چوہدری نثارکااستعفیٰ،وزیراعظم کوپیشکش،بڑا اعلان کردیاگیا، تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے چودھری نثار کی استعفے کی پیشکش مسترد کر دی ہے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ سانحہ سول اسپتال کوئٹہ کی رپورٹ میں سرکاری نہیں ذاتی الزامات لگائے گئے۔ موقف سپریم کورٹ میں پیش کروں گا۔وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا میڈیا کی مرچ مصالحوں کے ساتھ کمیشن کی رپورٹ اخبارات میں پڑھی۔

یک طرفہ رپورٹ کس طرح سے سامنے آ گئی اور رپورٹ میں ذاتی الزامات بھی لگائے گئے۔ انہوں نے کہا سپریم کورٹ میں مجرم کو بھی اپنی صفائی کا موقع دیا جاتا ہے اور مجرم کو اس وقت مجرم نہیں کہا جاتا جب تک الزامات ثابت نہ ہو جائیں۔ گزشتہ 2 دنوں میں میڈیا میں میری اور وزارت داخلہ پر تنقید ہو رہی ہے جبکہ میرے خیر خواہوں کے منہ میں جو آتا ہے کہہ دیتے ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا ملک کی سیکورٹی کے حوالے سے ہمیں نقصان ہو گا کیونکہ ملک کی اندرونی سیکورٹی بہت احساس ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سول ملٹری تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا وزیراعظم سے کہا کہ استعفیٰ دے کر ریکارڈ درست کرانا چاہتا ہوں لیکن انہوں نے کہا یہ میرے لیے ناقابل قبول ہے۔اب میں ہر پلیٹ فارم سے وضاحت کروں گا۔ سپریم کورٹ میں اپنا اور وزارت داخلہ کا موقف پیش کروں گا۔ جس نے نیشنل ایکشن پلان پڑھا ہی نہیں وہ اس پر اظہار خیال کرتا ہے۔ قومی اسمبلی میں نیشنل ایکشن پلان پر کسی نے جواب نہیں دیا جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر وزارت داخلہ میں سب سے زیادہ کام ہوا ہے۔ نیکٹا سے 7 ہزار 774 انٹیلی جنس شیئر ہوئیں۔وزیر داخلہ نے کہا کمیشن نے کہا اخباری ثبوت موجود ہیں کہ 21 اکتوبر کو آپ اہلست والجماعت سے ملے۔ پہلا سوال کیا گیا کہ آپ اہلسنت والجماعت کے وفد سے کیوں ملے۔ میں اہلسنت والجماعت کے وفد سے نہیں ملا کیونکہ اسلام آباد میں جلسوں کی اجازت دینا یا نہ دینا میری ذمہ داری نہیں ہے انتظامیہ کا کام ہے۔

ہم نے جواب دیا ہمیں ایسی کوئی خبر نہیں ملی کہ وزیر داخلہ کی وفد سے ملاقات ہوئی ہو اور کمیشن نے اس کے جواب میں ایک تصویر بھیج دی جو کوئی اخباری رپورٹ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا دفاع پاکستان کونسل 2009 میں معرض وجود میں آئی دفاع پاکستان کونسل میں دینی و سیاسی جماعتیں شامل ہیں جس کا گروپ ہی مجھ سے ملنے آیا تھا اور وزارت کو علم نہیں تھا کہ مولانا لدھیانوی بھی اس وفد کا حصہ ہوں گے۔ وفد کی طرف سے شناختی کارڈ کے مسئلے پر وقت مانگا گیا تھا۔وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا مولانا لدھیانوی نے عام انتخابات میں حصہ لیا کسی نے اعتراض نہیں اٹھایا جبکہ دفاع پاکستان کونسل کالعدم تنظیم نہیں ہے۔ سیاسی جماعتوں سے پوچھا جائے کہ مولانا لدھیانوی کو وفد کے ساتھ کیوں لائے۔

پوچھا گیا اسپیشل سیکریٹری کی تعیناتی کیوں کی گئی؟۔ تعیناتی قانون کے مطابق کی گئی تاہم جواب وزیر اعظم ہاؤس سے لیں۔ انہوں نے کہا پچھلی حکومت کے 5 سال میں ملک کا تیا پانچا کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں ہزاروں میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔ اس دور میں دھماکا نہ ہونا خبر ہوتی تھی اور اس وقت کسی سے جواب طلبی کیوں نہیں کی گئی۔وزیر داخلہ نے کہا اے پی ایس پر حملے کے دن ہی قبل ازوقت ا?گاہ کر دیا تھا۔ اسلام آباد میں سفارتکاروں پر حملے ہوئے کیا اس وقت ضمیر نہیں جاگا۔ میریٹ ہوٹل پر حملہ ہوا آج چلملانے والے تب کیوں نہیں بولے۔ انہوں نے مزید کہا میں نے پیسے کو ذریعہ سیاست نہیں بنایا۔ میں نے ایل این جی کا کوئی کوٹہ نہیں لیا نہ میری کوئی آف شور کمپنی ہے اور نہ میرا کوئی پٹرول پمپ ہے۔

چودھری نثار نے کہا ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کے وقت لندن میں تھا اور ڈی جی رینجرز سے بات ہوئی۔ ڈاکٹر عاصم جانے نیب جانے اور اللہ تعالی کی ذات۔ وزیر داخلہ نے کہا ملک کے ایک ایک پیسے کا دفاع کیا ہے۔ اپنی عزت کا ہر حال میں دفاع کروں گا۔ سپریم کورٹ کے جج کو سمجھنا چاہیے کہ پیش ہونے والوں کی بھی عزت ہے۔ ا?ج بھی کہا گیا کہ پریس کانفرنس نہ کریں اور جب استعفے کا کہا تو پھر ا?گے بات بڑھی۔ میرے لیے وزارت نہیں عزت اہم ہے۔ انہوں نے کہا سانحہ کوئٹہ سے متعلق ایک بھی سوال نہیں کیا گیا۔ کمیشن کے مینڈیٹ پر تو نظر ڈالی جائے اور بتایا جائے کون سی غلط بیانی کی؟۔ اگر سمجھا گیا کہ میرے موقف میں وزن نہیں تو قوم اور عدلیہ فیصلہ کرے۔ اس عہدے پر رہا تو عزت کے ساتھ رہوں گا۔انہوں نے کہا

ا?پریشن ضرب عضب کا فیصلہ مشترکہ طور پر کیا گیا۔ 90 فیصد سے زیادہ ا?پریشن پولیس کے ذریعے کیے گئے اور 20 ہزار سے زیادہ انٹیلی جنس بنیاد پر ا?پریشن ہوئے۔ جو واقعات ہوئے اس پر تنقید جبکہ جن سے بچایا ان پر بات نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا ایک ہی رٹ لگائی ہوئی کہ مشرف کو باہر جانے دیا پھر بھی مشرف کو ڈھائی سال تک باہر نہیں جانے دیا جبکہ عدلیہ کے فیصلوں کے بعد مشرف باہر گئے۔ وزیر داخلہ نے کہا ایان علی پر الزامات ہیں جو میں نے نہیں لگائے جبکہ 90 فیصد کرپشن کیسز پر ایک جماعت کو تکلیف ہے۔ ایک بچے کے ذریعے جو منہ میں ا?تا ہے کہلوا دیا جاتا ہے۔ ان سب چیزوں کا مطلب صرف تضحیک کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں