لاہور(آئی این پی)تحر یک انصاف کے چےئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے حکمران قوم سے سچ نہیں بولتے ‘ پانامہ ایشوز سے ’’فارغ ‘‘ہو کر ملک میں سستی اور میعاری ایجوکیشن کیلئے جد وجہد کر وں گا ‘ اگر زندگی میں آگے بڑھانے کا موقعہ ملے تو ایک کے بعد ایک فیکٹری گھر اور لندن میں فلیٹس اور آف شور کمپنیوں کی بجائے معاشرے میں ظالم کے سامنے کھڑا ہوناچاہیے‘نوجوان پیسہ ضرور کمائے مگر پانامہ کی طر ح نہیں ‘ناانصاف کے خلاف نوجوانوں کو کھڑا ہونا چاہیے‘چوری اور غلط طر یقے سے پیسہ کمانے سے لوگوں کو عزت نہیں ملتی ‘زندگی میں کامیاب وہی ہوتا ہے تو ہار نے سے خوفزدہ نہیں ہوتا ‘دنیا میں کوئی بھی لیڈر رسک لینے سے ہی بنتا ہے ‘قومیں سڑکوں اور پلوں سے نہیں انسانوں پر سر مایہ کاری کر نے سے بنتی ہیں ‘اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں حکمران اورنج ٹرین جیسے منصوبوں پر اربوں روپے لگا رہے ہیں‘تعلیم پر زور دیا جائیگا تو ملک ترقی کر یگا ۔
وہ نمل یونیورسٹی کے 4ویں کانووکیشن سے ایوان اقبال میں خطاب کر رہے تھے جبکہ نے گر یجویشن مکمل کر نیوالے طلباء میں ڈگر یاں بھی تقسیم کیں عمران خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ 12اساتذہ کیلئے3ٹیچرز نمل یونیورسٹی میں موجود ہیں اور ہم اس کو ایسی یونیورسٹی بنائے گے جس میں ریسرچ ہوگی اس کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے میعار کے مطابق بنائیں گے اور نمل سے بھی ہر شعبے کیلئے ہیروز پیدا ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد آنیوالی حکومتیں یہ بھول گئی کہ انسانوں پر سر مایہ کاری کے بغیر ترقی ہوسکتی حالانکہ اس سے قومیں ترقی نہیں کرتیں پاکستان میں سڑکوں اور پلوں پر سر مایہ کاری کر کے قوم کو قوم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہیں پاکستان ایکسپورٹ 20ارب ڈالرز تک آگئی ہے اور سنگا پور کی آبادی لاہور سے بھی کم ہے مگر وہاں کی ایکسپورٹ520ارب تک پہنچ چکی ہے کیوں کہ وہاں کے حکمرانوں نے انسانوں پر خرچ کیا ہے جسکی وجہ سے وہاں اکنامی ترقی کر تی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہے مگر حکمران اورنج ٹرین جیسے منصوبوں پر اربوں روپے خر چ کر رہے ہیں اور پاکستان میں ایجوکیشن کا شعبہ پیسہ بنانے کی مشینیں بن چکی ہیں ایسا نہیں ہو نا چاہیے بنی کر یم ؐنے بھی تعلیم پر توجہ دی حالانکہ اس وقت بھی لوگ پیسوں سے تعلیم کی بجائے اسلحہ خر ید سکتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو رسک لیتا ہے اور برے وقت سے ڈرتا نہیں بلکہ ا س سے بھی فائدہ حصہ کر تا ہے اور اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کر تا ہے جب میں کر کٹ کھلتا رہا میں اگلے دن کے اخبار نہیں پڑھتا تھا کیونکہ میں اپنی غلطیوں ٹھیک کر نے کی کوشش کر تا تھا اس کیلئے بھی تعلیم کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اگر آ پ کو زندگی میں آگے بڑھانے کا موقعہ ملے تو ایک کے بعد ایک فیکٹری گھر اور لندن میں فلیٹس اور آف شور کمپنیوں کی بجائے معاشرے میں ظالم کے سامنے کھڑا ہونا اور مظلوم کیساتھ کھڑا ہو نا ہے غلط طر یقے سے پیسہ کمانے سے لوگوں کو عزت نہیں ملتی اور اگر آپ جائزطر یقے سے پیسے کمائے تو معاشر ے کی ترقی پر خرچ کر یں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیمی ناانصافی ہے عدالتوں میں پیسہ سے ہر ناجائز کام کر واسکتے اور بے گناہ لوگ پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے جیلوں میں پڑ ے ہیں بڑ ے بڑے پیسے والوں کو پاکستان کا عدالتی نظام کچھ نہیں کہتا صرف بزدل اور خود غر ض لوگ ہے ظلم اور ناانصافی کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے ۔
انہوں نے کہا کہ پیسے والے لوگ آتے جاتے ہیں رہتے ہیں مگر انصاف اور سچ کی بات کر نیوالوں کو معاشرہ اور دنیا ہمیشہ یادکھتی ہے اور کر پٹ لوگوں کو کوئی یاد نہیں کر تا ہے آج لوگ ان لوگوں کی قبروں پر ہی جاتے ہیں جو معاشرے کیلئے لڑتے رہے ہیں پاکستان میں ارب پتی سکون سے نہیں سوتے اور کتنے ارب پتی ہیں جو بغیر سیکورٹی کے کہیں آجاسکتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں