واشنگٹن(آن لائن)امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سمندری حدود میں ایک زیر آب کام کرنے والے ڈرون کو واپس کرنے کے لیے انھوں نے چین سے باقاعدہ طور پر درخواست کی ہے۔امریکہ کا الزام ہے کہ چین کی بحریہ نے جمعرات کو ساوتھ چائنا سی’ بحیر جنوبی چین میں ایک امریکی زیر آب تحقیقات کرنے والے ڈرون کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی بحری جہاز یو ایس این ایس بوڈچ سمندری سطح کا سروے کرنے والا شپ اس ڈرون کو نکالنے والا تھا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس آبی ڈرون کو اوشن گلائڈر کا نام دیا گیا ہے اور یہ پانی میں نمکیات اور اس کے درجہ حرارت کا تجزیہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔امریکی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان کپٹن جیف ڈیوس نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ یہ زیر آب چینلز کے نقشے حاصل کرنے کے ایک پروگرام کا حصہ ہے جو کوئی خفیہ کارروائی نہیں ہے۔پینٹاگان میں ہونے والی ایک پریس بریفنگ کے دوران کپٹن ڈیوس نے کہا کہ یہ ڈرون چین نے پکڑ لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ یو یو وی یا انڈر واٹر وہیکل قانونی طور پر بحیر جنوبی چین میں زیر آب دفاعی سروے کر رہا تھا‎
انھوں نے کہا کہ یہ یو یو وی یا انڈر واٹر وہیکل قانونی طور پر بحیر جنوبی چین میں زیر آب دفاعی سروے کر رہا تھا۔انھوں نے کہا کہ یہ اس پر واضح الفاظ میں تحریر تھا کہ یہ امریکہ کی ملکیت ہے اور اس کو پانی سے نکالا نہیں جا سکتا۔امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ واقع بحیرہ جنوبی چین میں فلپائین کی فوج بندرگاہ سوئبک بے سے پچاس میل شمال مغرب کی جانب پیش آیا۔پینٹاگان کے بیان کے مطابق چینی بحریہ کا ایک جہاز اے ایس آر 510۔ نے امریکی جہاز بوڈچ سے پانچ سو گز کے فاصلے پر آ کر ایک چھوٹی کشتی سمندر میں اتاری اور اس ڈرون یا یو یو وی کو اٹھالیا۔اس بیان میں کہا گیا کہ امریکی جہاز بوڈچ نے چینی بحری جہاز سے ریڈیو کے ذریعے رابطہ کر کے اس ڈرون کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا لیکن اس کو نظر انداز کر دیا گیا۔کیپٹن ڈیوس کا کہنا ہے کہ ایک پیشہ ور بحریہ سے اس طرح کے رویے کی امید نہیں کی جاتی۔اس واقعے سے امریکہ میں چین کی طرف سے بحیرہ جنوبی چین میں جارحانہ انداز اختیار کرنے کے بارے میں تشویش بڑھے گی۔ایک امریکی تھنک ٹینک نے اسی ہفتے اطلاع دی ہے کہ چین اس خطے میں بنائے گئے مصنوعی جزیروں پر دفاعی اور فوجی آلات اور ہتھیار نصب کر رہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں