لاہور(آئی این پی) تحر یک انصاف کے چےئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ شفاف الیکشن کیلئے جدوجہد کا نام یوٹرن نہیں‘میں نے کبھی اپنے سیاسی مقاصد کیلئے یوٹرن نہیں لیا‘ جب وزیر اعظم ایوان میں جواب دہی کے لیے آئیں گے تو میں بھی اسمبلی میں آ جاؤں گا صرف اراکین کی تقر یریں سننے نہیں آسکتا ‘نیشنل ایکشن پلان پر فوج نے اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کیا لیکن حکومت سے وابستہ امیدیں پوری نہیں ہوسکیں ۔
وزیر داخلہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل اور سوالوں کے جوابات نہیں دے سکتے تو مستعفی ہوجائیں۔ جمعہ کے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ شفاف الیکشن کیلئے جدوجہد کا نام یوٹرن نہیں ، میں نے کبھی اپنے سیاسی مقاصد کیلئے یوٹرن نہیں لیا یوٹرن لینے کا الزام دھرنے والوں کو یو ٹرن کا مطلب بھی سمجھایااور عمران خان نے کہا کہ جھوٹ بولنا یوٹر ن ہوتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ میں کسی کی تقریریں سننے کیلئے پارلیمنٹ نہیں جاتا ، جس دن وزیر اعظم سوالوں کا جواب دینے کیلئے پارلیمنٹ آئیں گے میں اسی دن پارلیمنٹ جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ایس سانحے کے بعد پوری قوم ایک ہوگئی ، یہ ہماری جماعت ہی تھی جس نے سانحے کے بعد اچھے اور برے طالبان کا تصور ختم کیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سانحہ کوئٹہ کمیشن رپورٹ کے بعد حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر فوج نے تو اپنا کردار ادا کر دیا مگر گورنمنٹ نے توقعات پوری نہیں کیں جسٹس عیسی قاضی کی رپورٹ سے حکومتی سنجیدگی پر سوالیہ نشان آ گیا ہے۔
پاک افواج کی کوشش کی وجہ سے دہشت گردی پورے ملک میں کم ہوگئی ہے لیکن حکومت دہشت گردی ختم کرنے کی کمٹمنٹ پوری نہ کرسکی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا سہرا صرف پاک فوج کو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نوازشریف اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی خاطر جھوٹ بولا ، وہ ایوان میں آکر جواب دینے کے پابند ہیں ہم پارلیمنٹ میں نوازشریف سے جواب لینے کیلئے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں