اسلام آباد (این این آئی) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے خلاف ریفرنس لانے کا اعلان کر دیا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ آج کے اجلاس میں بھی بولنے کا موقع نہیں دیا گیا ٗجانبدار سپیکر پر ہمیں بہت دکھ ہے ٗ پیپلز پارٹی کا رویہ بھی افسوسناک ہے، یہ منہ اور مسور کی دال۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو سپیکر کے خلاف ریفرنس لائیں گے بے شک ناکام ہی کیوں نہ ہو جائیں ٗاس معاملے پر عمران خان سے بھی بات کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف چوہدری نثار علی خان سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں تحریک التواء جمع کر ادی ۔قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی نے تحریک التواء جمع کرا دی ہے جس میں سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ میں وزارت داخلہ کی نااہلی کی نشاندہی کی گئی ہے ۔تحریک التواء میں کہا گیا کہ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ قیادت کے بحران کا شکار ہے اس لیے اس معاملے پر ایوان میں بحث کرائی جائے ۔‎
جبکہ اس سے قبل قومی اسمبلی میں شیخ رشید احمد اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جھڑپ ہوگئی ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کردی ، شیخ رشید احمد سپیکر کے جانبدارانہ رویہ کیخلاف احتجاج کررہے تھے شیخ رشید نے سپیکر ڈائس پر جا کر استدعا کی کہ انہیں ایوان میں بولنے کی اجازت دی جائے مجھے عوام نے منتخب کیا ہے اور بولنا میرا حق ہے تاہم سپیکر نے کہا کہ آپ کو آپ کی باری پر بولنے کی اجازت ہوگی جس کے توڑ کیلئے خواجہ سعد رفیق سرگرم ہوگئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ شیخ رشید ایوان کے اندر اور ایوان کے باہر بدتمیزی کرتے ہیں تاہم اس دوران پیپلز پارٹی کے اعجاز جاکھرانی اور شیخ رشید کے مابین جھڑپ ہوگئی اعجاز جاکھرانی نے بھی آستینیں چڑھا لیں۔
ان کی سپورٹ میں پیپلز پارٹی کے دیگر افراد بھی کھل کر سامنے آگئے اس کے بعد اعجاز جاکھرانی اور خواجہ سعد رفیق آپس میں مشوروں میں مصروف رہے اور پھر خواجہ سعد رفیق نے ڈائس پر جا کر سپیکر کو ہدایت بھی دی شیخ رشید مایوسی کے عالم میں اپنی نشست پر بیٹھ گئے ان کے ساتھ محمود خان اچکزئی بھی تھے انہوں نے بھی شیخ رشید کی حمات کی اور ان بات چیت کی پھر جمشید دستی اپنی نشست سے اٹھ کر شیخ رشید کے پاس گئے اس دوران خواجہ سعد رفیق اور اعجاز جاکھرانی خوش گپیوں میں مصروف رہے اور سپیکر خواجہ سعد رفیق کی طرف دیکھتے رہے۔
شیخ رشید نے ایوان میں بلند آواز میں کہا کہ سپیکر کو خدا کے سامنے جوابدہ ہونا ہے شیخ رشید نے کہا کہ آپ ملک کے پہلے سپیکر ہیں جس کے اس مقدس ایوان اور اس مقدس عہدہ کا رتبہ کم کیا ہے حکومتی اراکین کی حرکتوں کے باعث نواز شریف کی سبکی ہورہی ہے اور انہوں نے کہا کہ جب سپیکر حکومتی اراکین کی ہدایت پر ایوان چلائیں گے تو اس ملک اور جمہوریت کا اللہ ہی حافظ ہے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ یوم سقوط ڈھاکہ ہے اس لئے ہم شیخ رشید کی تقریر سے زیادہ اس معاملہ پر بات کرنا چاہتے ہیں تاہم اس دوران ایم این اے جمشید دستی نے سپیکر ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا اور کہا کہ جب سپیکر ہدایت لے کر ایوان چلائیں گے تو ہم دھرنا دینگے تاہم بعد میں ایم این اے شیر اکبر اور محمد اقبال جمشید دستی کو اٹھا کر اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔
شیخ رشید نے کہا کہ حکومت ہماری زبان بندی نہیں کرسکتی سپیکر نے اپنی وضاحت میں کہا کہ حکومتی اراکین بالخصوص خواجہ سعد رفیق نے مجھے چٹ بھیجی تھی اور کہا تھا کہ شیخ رشید کی تقریر کا جواب دانیال عزیز دیں گے اس کے علاوہ مجھے کوئی ہدایت نہیں دی شیخ رشید کو سپیکر نے ہدایت کی کہ آپ حکومتی اراکین سے تقریر کی اجازت کا مطالبہ کریں تو شیخ رشید نے کہا کہ میں سپیکر سے تو بولنے کی استدعا کرسکتا ہوں حکومتی اراکین سے نہیں اس کے بعد شیخ رشید ایوان سے اٹھ کر باہر چلے گئے جبکہ سپیکر نے انہیں ایوان میں تقریر کرنے کی اجازت نہ دی

اپنا تبصرہ بھیجیں