>واشنگٹن(آئی این پی) امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات میں مبینہ مداخلت پر روس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ اس بات پر کوئی شک نہیں کہ جب ایک غیر ملکی حکومت انتخابات کی ساکھ پر اثر انداز ہوتی ہے تو ہمیں ایکشن لینے کی ضرورت ہے اور ہم یہ کارروائی اپنی مرضی سے کریں گے۔
روس کے صدر اس حوالے سے ہمارے جذبات سے واقف ہیں کیونکہ انہوں نے خود ان سے براہ راست اس بارے میں بات کی ہے۔واضح رہے کہ امریکی انٹیلیجنس ادارے نے گزشتہ دنوں دعوی کیا تھا کہ گزشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں ہیلری کلنٹن کی ڈرامائی شکست کے پیچھے روسی ہیکرز کا ہاتھ ہے اور اس میں روسی حکومت بھی براہ راست ملوث ہے۔
امریکا کے انٹیلی جنس عہدیداروں کو یقین ہے کہ صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہونے والی مبینہ مہم میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن براہ راست ملوث ہیں۔ایک سینئر عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو بتایا کہ ‘روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ذاتی طور پر اس بات کی ہدایات جاری کیں کہ کس طرح ڈیموکریٹس کا مواد ہیک کرکے اسے لیک کرنا ہے اور پھر کیسے اسے استعمال کرنا ہے’۔
امریکی نشریاتی ادارے نے دعوی کیا کہ امریکی خفیہ اداروں کے 2 عہدیداروں کو روسی صدر کی ذاتی مداخلت سے متعلق معلومات تک براہ راست رسائی تھی۔امریکی انٹیلی جنس عہدیداروں کے مطابق روسی صدر کی ذاتی مداخلت سے متعلق ٹھوس معلومات امریکی اتحادیوں کے لیے جاسوسی کا کام کرنے والے سفارتی ذرائع سے حاصل کی گئی۔
امریکی نشریاتی ادارے نے یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں دی ہے جب کچھ دن قبل ہی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے حوالے سے یہ رپورٹ دی تھی کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کو اس بات کا یقین ہے کہ روس نے امریکی انتخابات میں مداخلت کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کو یقینی بنایا۔ادھر امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات سامنے آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں سوالیہ انداز میں کہا تھا کہ اگر انتخابات میں روس یا کسی اور کی جانب سے ہیکنگ کی جانے کی اطلاعات تھیں تو وائٹ ہاس کو کارروائی کرنے میں اتنی دیر کیوں لگی؟
امریکی میڈیا میں صدارتی انتخابات کے دوران روس کی جانب سے ہیکنگ سے متعلق کافی بیان بازی کیے جانے کے باوجود یہ خبریں لوگوں کی خاص توجہ حاصل نہیں کر پائیں اور امریکی عوام کی توجہ انتخابات پر ہی مرکوز رہی۔انٹیلی جنس ذرائع نے نشریاتی ادارے این بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ روسی صدر پیوٹن کا مقصد مستقبل میں کئی اہم پہلوں پر کامیابی حاصل کرنا ہے، روس کا مقصد امریکا کو اتحادیوں کی نظر میں نیچا دکھانا اور امریکی سیاست کو کرپٹ ثابت کرنا ہے۔
دوسری جانب روس نے امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لارووف نے امریکی میڈیا کی رپورٹس کو بے وقوفی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جب امریکی میڈیا کی رپورٹس دیکھیں تو وہ حیران رہ گئے۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لارووف نے کہا ہے کہ امریکہ نے اگر کچھ ایسا ویسا کیا تو یہ تیسری عالمی جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں